آسٹریا نے سات مساجد بند اور درجنوں اماموں کو ملک سے بیدخل کرنے کا اعلان کردیا

(ویانا۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 24 رمضان 1439ھ) آسٹریا کی حکومت نے ملک میں سات مساجد کو بند اور درجنوں اماموں کو ملک سے بیدخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دائیں بازو کی حکومت کے چانسلرسیبستیان کرز نے جمعے کے روز ایک اخباری کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک ترکش مسجد اور عرب مذہبی کمیونٹی نامی ایک گروپ کو تحلیل کررہی جو چھ مساجد چلاتا ہے۔

یہ اقدام 2015ء کے ایک قانون کے تحت اُٹھایا گیا ہے جو مذہبی گروپوں کیلئے غیرملکی مالی امداد کو ممنوع قراردیتا ہے اور مسلمان برادری سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ریاست (آسٹریا) اور معاشرے سے متعلق مثبت بنیادی خیالات رکھیں۔

یاد رہے کہ آسٹریا میں لگ بھگ 6 لاکھ مسلمان رہتے ہیں جن میں سے بیشتر ترک نژاد ہیں۔ ملک میں اس سے پہلے بھی مسلمانوں کیخلاف سخت اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ مقامی مسلمان حکومتی اقدامات کو اسلام فوبیا اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی قراردیتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ حکومت کے آمرانہ اقدامات مذہبی آزادی، اظہارِ رائے اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

دنیا بھر میں عیسائیوں کے مختلف فرقے، گرجا گھر، بُدھ مت گروپ اور عبادتگاہیں،  یہودی گروپ اور دیگر مذاہب کی تنطیمیں اور عبادتگاہیں بیرونِ ملک سے نہ صرف مالی اعانت وصول کرتے ہیں بلکہ اسلامی ملکوں سمیت دیگر ممالک میں خود سے منسلک یا ہم خیال گروپوں اور عبادتگاہوں کوسرمایہ فراہم کرتے ہیں ۔ لیکن آسٹریا کے چانسلر نے اپنے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا کہ خود اُن کے ملک میں دیگر مذاہب کی تنطیمیں اور عبادتگاہیں غیرملکی مالی امداد وصول کرتی ہیں یا نہیں۔

آسٹریا کیجانب سے مساجد کو بند اور مساجد کے اماموں کو بیدخل کیے جانے پر ترکی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اِسے اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور تعصب پر مبنی اقدام قراردیا ہے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں آسٹریا کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام مخالفت اور تعصب کو اس طریقے سے معمول بن جانے کو مُسترد کرنے کی ضرورت ہے۔

آسٹریا کے ترکی کیساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں کیونکہ چانسلرکرز اسلام اور ترک مخالف مہم چلاتے رہے ہیں۔ آسٹریا کے علاوہ ہالینڈ، فرانس، جرمنی، ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس میں اسلام مخالف سیاستدانوں نے اپنے اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی ہے۔ برطانیہ میں حال ہی میں مسلمانوں نے وزیراعظم تھریسا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے اندر اسلام مخالف اور اسلام فوبیا کے شکار ارکان کا سدِ باب کریں۔

مذکورہ ممالک میں اسلام مخالف رجحانات کو اقوامِ متحدہ کے دستور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کہا جارہا ہے۔ کئی ممالک میں مسلمان خواتین کے حجاب یا برقعہ پہننے پر قدغن لگادی گئی ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں