ارجنٹائن کیجانب سے میچ منسوخ کرنے سے اسرائیلی حکومت میں کھلبلی، عوام کی تنقید

(غزہ۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 23 رمضان 1439ھ) اطلاعات کیمطابق ارجنٹائن کیجانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کیساتھ طے شُدہ میچ منسوخ کرنے پر اسرائیلی حکومت میں کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ عوام کیجانب سے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہُو کی حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ ارجنٹائن کی ٹیم کو عالمی فٹبال کپ سے قبل مقبوضہ القدس میں ہفتے کے روز ایک دوستانہ میچ کھیلنے کیلئے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی لیونل میسی سمیت اسرائیل پہنچنا تھا لیکن بُدھ کے روز ارجنٹائن کی فٹبال ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ وہ یہ دورہ منسوخ کررہی ہے۔

اسرائیل اس طرح کے میچوں اور عالمی شہرت یافتہ گلوکاروں کو ملک میں مدعو کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ مقبوضہ علاقے اُس کی ملکیت ہیں۔ ارجنٹائن کی ٹیم کیساتھ جس علاقے میں میچ ہونا تھا وہ بھی فلسطینی گاؤں ہے جس پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ کرکے وہاں آبادیاں قائم کی ہیں۔ اسرائیل پر نکتہ چینی کیجاتی رہی ہے کہ وہ کھیلوں کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

مقامی اطلاعات کیمطابق ارجنٹائن کیجانب سے مبینہ ’’دوستانہ‘‘ میچ منسوخ کیے جانے پر اسرائیلی حکومت  نہ صرف ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی سخت ہزیمت اُٹھارہی ہے جس پر اُس کے وزراء اثرات کو کم ازکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنہیں خدشہ ہے کہ اب عالمی شہرت یافتہ فنکار پہلے سے زیادہ اسرائیل آنے سے گریز کریں گے۔

فلسطینی بچّوں اور فٹبال ایسوسی ایشن کی طرف سے لیونل میسی سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اسرائیل سے میچ کھیلنے کیلئے مقبوضہ علاقے میں نہ جائیں کیونکہ اسرائیل فلسطینیوں کو بے دریغ قتل کررہا ہے اور مقبوضہ گاؤں کو اسرائیل کا حصّہ دکھانے کی کوشش کررہا ہے۔ بعد ازاں ارجنٹائن اور اسپین کے شہر بارسلونا میں بھی فٹبال کے شائقین اور لیونل میسی کے پرستاروں نے پرزور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹیم کا دورہٴ اسرائیل منسوخ کرے کیونکہ اسرائیل امتیازی سلوک روا رکھنے والی نسل پرست ریاست ہے۔

دنیا بھر کی ان گنت تنظیموں اور لوگوں کیجانب سے ارجنٹائن سے اسرائیل کیساتھ میچ منسوخ کرنے کی اپیلوں کے علاوہ ایک نوجوان فلسطینی فٹبالر محمد خلیل عبید نے بھی لیونل میسی اور ارجنٹائن کی ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں سے میچ منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اسرائیلی فورسز نے غزہ میں فلسطینیوں کیجانب سے 30 مارچ سے ہونے والے اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران عبید کے دونوں گھٹنوں پر گولی ماردی تھی جس سے وہ معذور ہوکر بطور فٹبالر اپنے شاندار مستقبل سے محروم ہوگئے ہیں۔

 محمد خلیل عبیدی اسرائیل کے نسلی امتیاز، بربریت اور جنگی جرائم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ اسرائیلی فوجی اپنے وزیراعظم نیتن یاہوکے حکم پر ہر اُس فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کرنے سے نہیں چُوکتے جو آزادی کی علامت اور آواز بن سکتا ہو۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں