استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس، غزہ میں ہلاکتوں پر اسرائیل کی مذمّت

(استنبول۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 04 رمضان 1439ھ) اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے  جمعے کے روز استنبول میں منعقدہ غیرمعمولی سربراہ اجلاس نے غزہ میں مبینہ اسرائیلی سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوج کیجانب 15 مئی کو 60 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 2700 سے زائد فلسطینیوں کو زخمی کرنے پر اسرائیل کی مذمّت کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیجانب سے اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ القدس منتقل کرنے کے اقدام کو غیرقانونی قراردیا ہے۔

اس سربراہ اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے علاوہ فلسطین، پاکستان اور کرغستان کے وزرائےاعظم، سعودی عرب، مصر، آذربائیجان، بحرین، لبنان، عراق، تیونس، اومان، لیبیا، بنگلہ دیش، برکینا فاسو، چاڈ، قازقستان، مالدیپ اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ، افغانستان، آذربائیجان و ایران کے صدور، اُردن کے شاہ عبداللہ، قطر کے امیر اور دیگر ممالک کے ارکانِ پارلیمان کی سطح کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کیلئے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنرکے خصوصی نمائندے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں حالیہ مظالم کی تحقیقات کیلئے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کیلئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اُن ملکوں کیخلاف مناسب سیاسی، معاشی اور دیگر اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے جو مقبوضہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی پیروی کریں گے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ’’75 سال پہلے یہودی لوگوں نے یورپ میں جس ظلم کا سامنا کیا تھا اُس میں اور جس بربریت کا سامنا غزہ میں ہمارے بھائی کررہے ہیں اُس کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے‘‘۔

ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ ’’میں کھلے اور واضح طور پر کہوں گا کہ جو اسرائیل کررہا ہے وہ راہزنی، بربریت اور ریاستی دہشتگردی ہے‘‘۔  اُنہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے جرائم پر جواب دینا ہوگا اور ’’جلد یا بدیر وہ اِس کا جواب دے گا‘‘۔

ترکی اس وقت اسلامی تعاون تنظیم کا باری کا صدر ہے۔ تنظیم کے موجودہ سربراہ ملک کے صدر کی حیثیت سے جناب اردوغان نے کہا کہ ’’القدس انتہائی مقدّس ہے جسے دہشتگرد ریاست کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا‘‘۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں