اسرائیل غزہ میں مظاہرین کیخلاف ممنوعہ ہتھیار استعمال کررہا ہے: نگراں تنظیم کا بیان

(غزہ۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 20 رجب 1439ھ)  انسانی حقوق کی ایک فلسطینی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے نزدیک غیرمسلح مظاہرین کیخلاف ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جو بین الاقوامی طور پر ممنوع ہیں۔

آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق کے سربراہ عسام یونس نے ایک اخباری کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قابض فورسز نے پھٹنے والی گولیوں سمیت بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیار اِس ہدف کیساتھ استعمال کیے ہیں کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ زخم لگیں‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے شہریوں کو براہِ راست نشانہ بناکر جان بوجھ کر ہلاک کیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ فلسطینیوں کو جو زخم آئے ہیں وہ زیادہ تر جسم کے اُوپری حصّے میں خاص طور پر سر، گردن اور سینے پر ہیں۔

عسام یونس نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور انسانی ہمدردری کے ذمہ داری کا اُٹھائیں اور فلسطینی شہریوں کیخلاف جاری اِن خلاف ورزیوں کی روکتھام کیلئے کام کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز سے فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ اور گولہ باری سے اب تک 20 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ فلسطین کی وزارتِ صحت کیمطابق 1500 سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

قبل ازیں، اسرائیلی فوج نے 30 مارچ جمعے کے روز ’’یوم الارض‘‘ کے موقع پر فلسطینیوں کے پُرامن مظاہرے پر گولیاں چلائیں اور ٹینکوں سے گولہ باری بھی کی گئی جس کے نتیجے میں کم ازکم 16 فلسطینی اُسی روز جاں بحق ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے اگلے ماہ 15 مئی تک جاری رہیں گے۔ یہ وہ دن ہے جب 1948ء میں اسرائیلی ریاست تخلیق کرکے فلسطینیوں کو اُن کے گھروں، زمینوں، شہروں، قصبوں اور گاؤں سے بزورِ طاقت بیدخل کیا گیا تھا۔ فلسطینی اِس دن کو ’’نبکا‘‘ یعنی ’’یومِ تباہی‘‘ کہتے ہیں۔ اِس دن کی مناسبت سے فلسطینی اپنے اِس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ قبضہ کرلیے گئے اُن کے گھروں، شہروں، زمین، قصبوں اور گاؤں کو واپس لوٹایا جائے اور اُنہیں اپنے مقبوضہ گھروں، شہروں، محلوں اور گاؤں میں واپس آنے دیا جائے۔

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں اسرائیلی سرحد کے نزدیک احتجاجی مظاہرہ کرنے والے پُرامن فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس، یورپی یونین، عرب لیکگ اور اسلامی تعاون تنظیم، او آئی سی نے بھی واقعے اور ہلاکتوں کی آزاد اور شفّاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ایسی کسی تحقیقات کو مُسترد کرکے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی برادری کے حقائق کی تہہ تک پہنچنےکی کوشش میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔

دوسری جانب، اسرائیل میں کئی گروپوں نے پُرامن احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کی ہلاکت پر اپنی حکومت اور فوج کی مذمّت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ ایک اسرائیلی گروپ نے تو اخبار میں ایک اشتہار شائع کروایا ہے جس میں اسرائیلی فوجیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیرمسلح اور پُرامن فلسطینیوں پر گولیاں چلانے کے احکامات کو مُسترد کردیں۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں