اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، غزہ میں حالیہ ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

نیویارک۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 30 شعبان 1439ھ) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی حالیہ ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائے۔ اجلاس کے دوران غزہ میں ہلاک ہونے والوں اور طویل عرصے سے فلسطین-اسرائیل تنازع میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے ایک منٹ کی دعائیہ خاموشی اختیار کی گئی۔

اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے مندوب ریاض منصور اور اسرائیلی نمائندے کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ برطانیہ، آئرلینڈ اور بیلجیئم سمیت دیگر ملکوں نے غزہ میں حالیہ ہلاکتوں کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ غزہ میں پیر کے روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے بچوں سمیت 61 فلسطینی جاں بحق جبکہ 2700 سے زائد زخمی ہوئے۔ 30 مارچ کو فلسطینیوں کے حالیہ احتجاجی مظاہرے شروع ہونے سے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 115 سے زائد ہوگئی اور چار ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطین کے مندوب ریاض منصور نے اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے فلسطینیوں کے نفرت انگیز قتل عام کی شدید مذمت کی اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں فوری روکنے کے علاوہ بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔ 

فلسطینی مندوب نے اقوام متحدہ کے اب تک کے عمل پر پر بھی سوالات اُٹھائے اور کہا کہ عالمی ادارے نے ماضی میں ہونے والے واقعات کی کوئی تحقیقات نہیں کروائی۔  اُنہوں نے عالمی ادارے کے ارکان سے سوال کیا کہ ’’کتنے فلسطینیوں کی موت کے بعد آپ کچھ کریں گے؟ کیا موت ان کا نصیب تھی؟ کیا ان بچوں کو ان کے والدین سے چھین لیا جانا صحیح تھا‘‘۔

اسرائیلی مندوب نے اپنی فوج کی بربریت کو ڈھٹائی کیساتھ چھپاتے ہوئے فلسطینی تنظیم حماس پر تنقید کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’حماس لوگوں کو تشدد پر مجبور کرتی ہے اور اور عام شہریوں کو سامنے لاتی ہے جس سے ان کے مرنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ اسرائیل پر الزام لگاتے ہیں‘‘۔ اسرائیلی مندوب کا یہ الزام محض بے معنی جواز تھا کیونکہ وہ ایسا کوئی ثبوت نہ پیش کرسکے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ غزہ میں فلسطینیوں نے اسرائیلی عوام یا فوج پر کوئی حملہ کیا ہو۔

اجلاس میں اسرائیل کو سلامتی کونسل کے ارکان کیجانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ارکان کی اکثریت نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں