امریکی صدر ٹرمپ میکسیکو کی سرحد پر بچّوں کو والدین سے جُدا کرنے کا حکم واپس لیں گے

(واشنگٹن۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 7 شوال 1439ھ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر تارکینِ وطن خاندانوں سے بچوں کو جُدا کرنے کے عمل کے خاتمے کے لیے ایک انتظامی حکم پر مقامی وقت کیمطابق  بُدھ کے روز دستخط کریں گے۔

صدر ٹرمپ کی رواں پالیسی کے تحت اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر امریکی حکّام میکسیکو سے غیر قانونی طور پر آنے والے خاندانوں سے بچے چھین لیتے ہیں جس پر امریکا سمیت دیگر ملکوں میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ مذکورہ بچّوں کو پنجروں میں رکھا جارہا ہے جن کی تصاویر بھی دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں جاری ہوچکی ہیں۔

امریکی صدر دورہٴ برطانیہ کرنے والے ہیں جہاں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نازیوں جیسی ظالمانہ پالیسی کو مُسترد کرتے ہوئے اُن کا دورہٴ لندن منسوخ کیا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تارکینِ وطن اور اُن کے بچّوں سے امریکہ اور خاص طور پر میکسیکو کی سرحد پر غیرانسانی سلوک کے مسلسل واقعات پر سخت تنقید کی ہے۔

امریکی انتظامیہ کے تازہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ جس حکم پر دستخط کررہے ہیں اس کے تحت اگر تارکینِ وطن خاندان غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے ہوئے پکڑے گئے تو ان سب کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ نئے حکم کے تحت غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ صدر ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں جو کچھ بھی کرنے جارہا ہوں ، وہ پیشگی حفاظتی اقدام ہے اور اس پر قانون سازی ہوگی۔ ہم اپنے ملک کے لیے تحفظ چاہتے ہیں‘‘۔

میکسیکو کی سرحد پر والدین سے جدا کیے جانے والے بچوں کو امریکی حکام پنجروں میں بند کرکے لے جاتے رہے ہیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر ان بچوں کی ویڈیوز منظرعام پر آنے کے بعد سے خود امریکا میں سرکردہ کاروباری شخصیات سے لیکر دانشوروں تک نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس کارروائی کی شدید مذمّت کی ہے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اِس معاملے پر اپنا اجلاس منعقد کرسکتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اس ادارے کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کرچکا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکہ کا رویہ اور نئی پالیسی ظاہر کرتے ہیں کہ خود امریکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوّث ہوگیا ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں