امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کیساتھ جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان

(واشنگٹن۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 23 شعبان 1439ھ)  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیساتھ چھ عالمی طاقتوں کے سمجھوتے سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے جبکہ اس کے ردعمل میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر بھی اس سمجھوتے میں رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھ پر یہ بات واضح ہے کہ موجودہ فرسودہ ہوتے گلے سڑے ڈھانچے کے اندر ہم ایرانی جوہری بموں کو نہیں روک سکتے‘‘۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ’’ایران کے سمجھوتے کی بنیاد ہی نقص والی ہے، اگر ہم نے کچھ نہیں کیا تو ہم جانتے ہیں کہ دراصل کیا ہوگا‘‘۔

امریکی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا فیصلہ امریکہ کو اپنے اتحادیوں میں تنہاء کردے گا جنہوں نے تہران کیساتھ جوہری سممجھوتے کو ختم نہ کرنے پر زور دیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی نے ایران کے جوہری منصوبے کو روکنے اور اُسے ایٹمی ہتھیاروں کی ممکنہ تیاری سے باز رکھنے کیلئے 2015ء میں تہران کیساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا۔ اِس سمجھوتے کے تحت ایران کے جوہری منصوبے کو روک دینے کے جواب میں مغربی طاقتیں ایران پر عائد کردہ پابندیاں ختم کرنے کی پابند ہیں لیکن صدر ٹرمپ نے امریکہ کو مذکورہ سمجھوتے سے نکالنے کیساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں لگائی جائینگی۔

امریکہ کے قریبی اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر ’’افسوس اور تشویش‘‘ کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے صدر ٹرمپ کے خطاب کے فوری بعد ٹیلیویژن پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اُنہوں نے ملک کی ایٹمی صنعت کو صنعتی یورینیئم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیدیا ہے۔ دریں اثناء، ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے ٹوئیٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ یہ دیکھنے کیلئے سمجھوتے کے بقیہ ممالک فرانس، برطانیہ، جرمنی، چین اور روس کیساتھ کام کریں گے کہ آیا وہ ایران کیلئے مکمل فوائد کی یقین دہانی کرواسکتے ہیں یا نہیں اور یہ کہ نتیجہ ایران کے ردعمل کا تعین کرے گا۔

دریں اثناء، امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما جن کی حکومت نے ایران کیساتھ جوہری سمجھوتہ کیا تھا، اُنہوں نے صدر ٹرمپ کیجانب سے جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے اعلان کو ایسی ’’سنگین غلطی‘‘ قراردیا ہے جو امریکہ کو جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران یا مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جنگ کے درمیان ہارنے کے انتخاب میں جھونک سکتی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئے بحران پیدا ہوں گے۔ دوسری جانب، اطلاعات کیمطابق اسرائیل اور سعودی عرب نے ایران کیخلاف صدر ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں