اکمل الدین احسان اوغلو نے صدر اردوغان کی حمایت کا اعلان کردیا

(استنبول۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 4 شعبان 1439ھ) اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سابق سربراہ اور ترکی کی قوم پرست تحریک جماعت کے رکنِ پارلیمان اکمل الدین احسان اوغلو نے صدر رجب طیب اردوغان کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ یاد رہے کہ جناب اوغلو اگست 2014ء میں منعقدہ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں صدر اردوغان کے مقابلے میں صدارتی اُمیدوار تھے جس میں اُنہیں شکست ہوئی تھی۔

جمعرات کے روز اُنہوں نے بتایا ہے کہ وہ اپنی جماعت کیجانب سے صدر اردوغان کا ساتھ دینے کے فیصلے کی حمایت کررہے ہیں اور قبل ازوقت انتخابات میں اِس پر عمل کریں گے۔ جناب اوغلو ترکی کے معروف سیاستدان اور بین الاقوامی طور پر جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ اُن کی جانب سے صدر اردوغان کی واضح حمایت نے صدارتی انتخاب میں جناب رجب طیب اردوغان کی یقینی کامیابی کو مزید تقویت دی ہے۔

صدر اردوغان نے بُدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ قبل ازوقت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات 24 جون کو منعقد کروانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ وہ حکمراں ترقّی و انصاف جماعت اور قوم پرست تحریک جماعت کے ’’عوامی اتحاد‘‘ کیجانب سے صدارتی اُمیدوار ہیں۔

ترکی میں صدارتی نظام کی منظوری دی جاچکی ہے اور ملک موجودہ نظام کی جگہ ایک مضبوط صدارتی نظام کی طرف جارہا ہے۔ ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے ترکی کے آئین میں کی گئی ترامیم کی منظوری 2017ء میں منعقدہ استصوابِ رائے میں دیدی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کیمطابق صدارتی نظام سے ترکی کا حکومتی اور سیاسی نظام مضبوط اور مربوط ہوگا جس سے مرکزیت کو فروغ حاصل ہوگا۔ اُن کا کہنا ہے کہ صدر اردوغان نے اپنے صدارتی دور میں ترکی کی بین الاقوامی اور علاقائی ساکھ کو غیرمعمولی انداز میں بہتر بنایا ہے اور اسلامی ممالک میں بھی ترکی کی فعال حیثیت مزید مستحکم ہورہی ہے۔

دوسری جانب، صدر اردوغان کے مخالفین اس تشویش کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ صدارتی نظام سے طاقت اور اختیارات کا محور صدر اردوغان بن جائیں گے اور اس سے آمرانہ رجحان کو تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں نے امریکہ، روس، چین اور فرانس جیسے ملکوں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی ملکوں میں صدارتی نظامِ حکومت پہلے سے نافذ ہے اس لیے کسی تشویش کے بجائے یہ یقینی بنانا اہم ہے کہ ملک میں صدارتی انتخاب اور دیگر انتخابات کا انعقاد شفّاف اور منصفانہ انداز میں ہو تاکہ عوام جمہوری انداز میں اقتدار کی باگ ڈور اپنی پسند کے اُمیدوار کو تفویض کرسکیں۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں