بھارتی مقبوضہ کشمیر مذبح خانہ بن گیا ہے: میرواعظ

(سرینگر۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 19 شعبان 1439ھ)  بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کیجانب سے بیگناہ اور نوجوان کشمیریوں کی ہلاکت اور گرفتاریوں کیخلاف پُرزور احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں تاکہ مقبوضہ وادیٴ کشمیر میں بھارت کے مظالم اور قتل عام پر دنیا کی توجہ دلائی جائے۔

جمعہ کے روز سرینگر، شوپیاں، پلواما اور دیگرمقامات پر مظاہرے ہوئے۔ مُشترکہ مزاحمتی قیادت کے تحت سرینگر کے نوہٹہ، حیدرپورہ اور لال چوک سمیت دیگر علاقوں میں بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے جن کی قیادت میرواعظ عمر فاروق، غلام نبی سمجھی، یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، شوکت احمد بخشی، بشیر اندرابی، مختار احمد صوفی، مولوی بشیر احمد، خواجہ فردوس وانی اور دیگر حریت رہنماؤں نے کی۔ کشمیری عوام کی بڑی تعداد نے مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کی جن میں ہر طبقہٴ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

عمر کمہارشہید کی سوگوار بہن، بھائی کی قمیض پکڑے اُسے اسکول جانے کا کہہ رہی ہے

میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کی جامع مسجد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر، خاص طور پر جنوبی کشمیر مذبح خانہ میں تبدیل ہوگیا ہے جبکہ شوپیاں، ترال، کلگام، پلواما اور دیگر علاقوں میں بیگناہوں کو ہلاک کیا جانا، گرفتاریاں، طاقت کا بیجا استعمال، چھاپے اور لوگوں کو ہراساں کیاجانا بھارتی ریاستی دہشتگردی کی نمایاں مثال ہے۔

اُنہوں نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم پر توجہ دیں اور کشمیریوں کی خواہش کیمطابق کشمیر کے تنازعے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔

حریت قائدین اور دیگر کشمیری تنظیموں نے شوپیاں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں طالبعلم عمر کمہار کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمّت کی۔ بھارتی فوج نے شوپیاں کے علاقے ترکی وانگام میں ایک کارروائی کے دوران مظاہرہ کرنے والے طلباء پر گولیاں، پیلیٹس اور آنسوگیس کے گولے چلائے جس سے عمر کمہار جاں بحق اور دیگر 30 سے زائد کشمیری طلباء زخمی ہوئے۔

بھارتی افواج مقبوضہ جمّوں وکشمیر میں تلاش کی کارروائیوں کی آڑ میں نوجوانوں کو چُن چُن کر ہلاک یا گرفتار کررہی ہے۔ جعلی اور خودساختہ مقابلوں میں نوجوان کشمیریوں کو ہلاک کرکے بھارتی افواج بیان جاری کردیتی ہیں کہ اُنہوں نے مسلح باغیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اِن مظالم کی وجہ سے اب کشمیری نوجوانوں میں آزادیٴ کشمیر کی جدوجہد پہلے سے زیادہ زور پکڑرہی ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں