جوہری سمجھوتے سے امریکی علیحدگی پر روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تنقید

(نیویارک۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 23 شعبان 1439ھ)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھ عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے اعلان پرروس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تنقید کی ہے۔ روس نے امریکی صدر کے اعلان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے قائم مقام سفیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے ایران کے جوہری سمجھوتے سے نکلنے کا اعلان حیران کن نہیں تاہم اُنہیں یہ اعلان سن کر بہت مایوسی ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بُدھ کے روز وہائٹ ہاؤس میں اپنے خصوصی خطاب میں جوہری سمجھوتے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو محفوظ رکھنا تھا لیکن اس سمجھوتے نے ایران کو یورینیئم افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھوتہ ایران کو دہشتگردی کی معاونت جیسی کارروائیوں سمیت عدم استحکام پھیلانے سے نہیں روکتا۔

دریں اثناء، برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے اپنے الگ الگ بیانات میں امریکی حکومت کی طرف سے جوہری سمجھوتے سے دستبرداری کے اعلان پر تنقید کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے جوہری سمجھوتے سے نکلنے کا اعلان ایک نئی رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش ہے، اُسے ایسا کرنے سے سختی سے گریز کرنا چاہیئے۔

 دوسری جانب، اسرائیل اور سعودی عرب نے صدر ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب نے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے اور اس پر پابندیوں کی بحالی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ریاض سے جاریکردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’سعودی عرب نے ماضی میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان سمجھوتے کی حمایت کی اور یہ حمایت اس پختہ یقین پر تھی کہ سمجھوتے سے مشرق وسطیٰ اور دنیا میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ’’ایران نے اس سمجھوتے کو خطے میں اپنی تخریبی سرگرمیوں بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ اُس نے حزب اللہ اور حوثی ملیشیا سمیت خطے میں دہشتگرد گروپوں کی حمایت کی جنہوں نے ایران کی دی گئی صلاحیتوں کی وجہ سے سعودی عرب اور یمن میں حملے کرکے شہریوں کو نشانہ بنایا، بین الاقوامی جہازرانی کیلئے بار بار خطرے کا باعث بنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی  کھلی خلاف ورزی کی ہے‘‘۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں