خارجہ اُمور کے جاپانی وزیر مملکت کی وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ قریشی سے ملاقات

(اسلام آباد-اُردونیٹ پوڈکاسٹ21ذوالحجہ1439ھ) خارجہ اُمور کے جاپانی وزیرِ مملکت کازُویُوکی ناکانے نے پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔ پاکستان میں 25 جولائی کے عام انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ کسی بھی اعلیٰ جاپانی عہدیدار کا پہلا دورہٴ اسلام آباد ہے۔

اطلاعات کیمطابق جاپانی وزیرِ مملکت سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے تجارت، سرمایہ کاری، معیشت اور انسانی وسائل کی ترقّیات سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کیلئے جاپان کیساتھ ملکر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

قبل ازیں، جناب ناکانے نے دفترِ خارجہ میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جنہوں نے اِس ملاقات میں جاپان کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے باہمی تجارت کو متوازن بنانے کی ضرورت کو بھی اُجاگر کیا جس میں پاکستان کو جاپان کا تعاون درکار ہے۔ دونوں وزراء نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیر خارجہ قریشی نے جاپانی وزیرِ مملکت کو اقتصادی ترقی، علاقائی تعلقات اور امن کے قیام میں گوادر بندگاہ کے کردار سے متعلق بھی آگاہی فراہم کی۔ 

یاد رہے کہ پاکستان اور جاپان کے مابین باہمی تجارت میں ایک طویل عرصے سے عدم توازن ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مسلسل غیرمعمولی خسارے کا سامنا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کیمطابق اِس خسارے کو کم کرنے کیلئے جاپان کیلئے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے اور اس کیلئے نئے پیداواری شعبوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔

دوسری جانب، گزشتہ 10 سالوں کے دوران جاپان کے بھارت کیساتھ اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ جاپان کیجانب سے بھارت میں سرکاری اور نجی سرمایہ کاری میں بھی مسلسل تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اِن دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم پچھلے کئی سالوں سے ایک دوسرے کے ملک کا ہر سال دورہ بھی کررہے ہیں جبکہ جاپان کے موجودہ وزیراعظم شنزوآبے نے اپنی تمام حکومتوں میں کبھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ 

گزشتہ لگ بھگ سات سالوں میں پہلی بار حال ہی میں جاپان کے وزیرِ خارجہ تارو کونو اسلام آباد کا دورہ کرچکے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں