شام میں فوج برقرار رکھنے یا نکالنے پر امریکہ کے متضاد بیانات

(واشنگٹن۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 20 رجب 1439ھ)  شام میں فوج کی تعیناتی برقرار رکھنے یا نکال لینے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے متضاد اور غیر واضح بیانات سامنےآنے ہیں جس سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی کے حوالے سے نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ شام سے امریکی فوج کو جلد نکال لیں گے۔

لیکن بعد ازاں نامہ نگاروں نے پینٹاگون اور وہائٹ ہاؤس سے اِس بارے میں تصدیق چاہی تو اُنہوں نے ایسے کسی فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے مابین شام سے امریکی فوج کو نکالنے کے سوال پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

اب ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں خبریں آئی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ شام میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی مزید کچھ عرصے برقرار رکھی جائیگی۔ تاہم مذکورہ عہدیدار کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے شام میں طویل عرصے کیلئے فوجی تعینات رکھنے کی حمایت نہیں کی۔

امریکہ شام میں کُرد باغیوں اور دیگر گرپوں کی مدد کرتا ہے جس میں ہتھیاروں اور نقل وحمل کی گاڑیوں کی فراہمی، تربیت اور مالی مدد شامل ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں شام کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ تُرکی کی افواج نے شام کے شہر عفرین کو باغیوں سے آزاد کروالیا ہے جبکہ ایک سمجھوتے کے تحت باغی اور دیگرمسلح گروپ غوطہ شہر سے نکل گئے ہیں جہاں اب شامی فوج کی عملداری ہے۔

دوسری جانب، رواں ہفتے ترکی کی میزبانی میں انقرہ میں ترکی، رُوس اور ایران کا سربراہ اجلاس منعقد ہُوا جس کے اختتام پرجاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیہ میں تینوں ملکوں نے شام کی تقسیم کی کوششوں کیخلاف مُشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، رُوس کے صدر ولادیمیر پُوٹن اور ایران کے صدر حسن روحانی کے ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والے بندکمرہ اجلاس کے بعد جارے کیے جانے والے مشترکہ بیان میں تینوں صدور نے کہا ہے کہ وہ ’’دہشتگردی سے جنگ‘‘ کے نام پر شام میں نئے زمینی حقائق تخلیق کرنے کی ’’تمام کوششوں کو مُسترد‘‘ کرتے ہیں۔

بیان میں شام کی خودمختاری کیلئے مضبوط اور مسلسل عزم کرنے کے علاوہ تینوں ملکوں کیجانب سے شام کی تقسیم اور اُس کی خودمختاری وجغرافیائی سالمیت کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کی قومی سلامتی کیلئے متحد رہنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں