صدر ٹرمپ اور کِم جونگ اُن کی سربراہ ملاقات 12 جون کو سنگاپور میں ہوگی

(واشنگٹن۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 25 شعبان 1439ھ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی شمالی کوریا کے رہنماء کِم جونگ اُن سے سربراہ ملاقات 12 جُون کو سنگاپور میں ہوگی۔ ٹوئیٹر پر اس اعلان کیساتھ اپنے بیان میں اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم دونوں اس ملاقات کو عالمی امن کیلئے بہت خاص لمحہ بنانے کی کوشش کریں گے‘‘۔

کسی بھی برسراقتدار امریکی صدر کی شمالی کوریا کے رہنماء سے یہ پہلی سربراہ ملاقات ہوگی۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے تعلقات پیانگ یانگ کے جوہری منصوبے کے باعث سخت کشیدگی کا شکار تھے۔ امریکہ نے شمالی کوریا کیخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اُس کیخلاف زیادہ سے زیادہ پابندیاں لگوانے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا تھا۔ لین اس صورتحال میں اچانک اُس وقت تبدیل آئی جب کِم جونگ اُن نے فروری میں جنوبی کوریا کے شہر پیونگ چانگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کیلئے شمالی کوریائی وفد بھیجنے کا اعلان کیا۔

پیونگ چانگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شمالی و جنوبی کوریا نے ایک متحدہ جھنڈے تلے مارچ کیا تھا اور دونوں ملکوں کی مُشترکہ آئس ہاکی ٹیم نے مقابلوں میں حصّہ لیا۔ ان کھیلوں کی افتتاحی تقریب اور ہاکی ٹیم کے ابتدائی مقابلے کو جنوبی کوریا کے صدر مُن جے اِن، شمالی کوریا کی اعلیٰ ترین پیپلز اسمبلی کی مجلس منتظمہ کے صدر کم یونگ نم،اور شمالی کوریا کے رہنماء کم جونگ اُن کی چھوٹی بہن کِم یو جونگ نے بھی بنفسِ نفیس اسٹیڈیم میں دیکھا اور اپنی مُشترکہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

بعد ازاں جنوبی کوریائی صدر مُن نے کِم جونگ اُن کی چھوٹی بہن سمیت شمالی کوریائی وفد سے ملاقاتیں کیا جس سے دونوں ملکوں کے مابین موثر رابطوں میں تیزی آئی اور جنوبی کوریائی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پیانگ یانگ کا دورہ کیا اور کِم جونگ اُن سے ملاقات کی۔ اِس ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا کہ شمالی کوریائی رہنماء کِم نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سربراہ ملاقات کی دعوت دی ہے جسے امریکہ صدر نے قبول کرلیا۔

27 اپریل کو جنوبی کوریا کے صدر مُن جے اِن اور شمالی کوریا کے رہنماء کِم جونگ اُن کی سربراہ ملاقات ہوئی جبکہ کِم نے چین کے دو اچانک اور اہم دورے کیے جن میں اُن کی چین کے صدر شی جن پنگ سے تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کی سنگاپور میں ہونے والی سربراہ ملاقات کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔  جنوبی وشمالی کوریا 50 کی دہائی میں ہونے والی کوریائی جنگ کے التوا کے سمجھوتے کو ایک باضابطہ جنگ بندی معاہدے میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں جبکہ امریکہ اور جنوبی کوریا چاہتے ہیں کہ شمالی کوریا کا جوہری اور میزائل منصوبہ ختم کروایا جائے۔

شمالی کوریائی رہنماء کِم جوہری منصوبے کے خاتمے کیلئے آمادگی کا اظہار کرچکے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کیمطابق اس کیلئے وہ امریکہ سے کئی ضمانتیں طلب کرسکتے ہیں جن میں شمالی کوریا پر حملہ نہ کرنے اور اُن کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش نہ کرنے جیسے باقاعدے معاہدے کا مطالبہ شامل ہوسکتا ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں