عرب وزرائے خارجہ کیجانب سے القدس میں سفارتخانے قائم نہ کرنے کا مطالبہ

(قاہرہ ۔ اُردونیٹ پوڈکاسٹ ۔ ۳ فروری ۲۰۱۸)  امریکی صدر کیجانب سے مقبوضہ القدس کو یکطرفہ طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اقدام کو مسلسل بین الاقوامی مخالفت کا سامنا ہے جبکہ عرب لیگ کا کہنا ہے کی اقوام متحدہ میں منظور کی گئی قراردادوں کیمطابق القدس شہر کی حیثیت  کو تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے۔

عرب لیگ کے وزراء خارجہ نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی 1980 میں منظور کی گئی قرارداد 478 پر عمل کرتے ہوئے القدس شہر میں سفارتی مشن قائم کرنے سے احتراز کریں۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے صدر دفتر میں منعقدہ خصوصی اجلاس کے دوران عرب وزراء خارجہ نے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کا خیر مقدم کیا جس کے مطابق القدس شہر کی حیثیت یا آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے یا اقدامات غیر قانونی ہیں اور انہیں سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی تعمیل میں منسوخ کیا جانا چاہیے۔

عرب وزراء خارجہ نے ایک بار پھر باور کرایا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں سفارتی مشنوں کو منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یکسر مسترد کیا جائے گا اس لیے کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی قراردادوں کیخلاف ہے۔

اجلاس کے بعد وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں زور دیا گیا ہے کہ تزویری طریقے کے طور پر امن قائم رکھا جائے اور عرب۔اسرائیل تنازع 2002 کے عرب امن منصوبے کے مطابق حل کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل 1967 میں قبضہ کی گئی فلسطینی اور عرب اراضی پر سے غاصب قبضے کو ختم ہونا چاہیے۔ علاوہ ازیں فلسطین کی ریاست اور فلسطینی عوام کے حقوق تسلیم کیے جائیں جن میں میں فلسطینیوں کا حق خود ارادیت شامل ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے۔ یہ امن عمل بین الاقوامی قانونی قراردادوں، امن کے مقابل زمین اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہو۔

بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے بین الاقوامی تائید کے حصول کیلئے کام کیا جائےاور جن ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے رابطوں و دوروں کے ذریعے ان پر زور دیا جائے کہ وہ اسے تسلیم کریں۔ ان ممالک کو مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے تسلیم کے مذکورہ عمل کی تزویراتی اہمیت باور کرائی جائے۔

عرب وزرائے خارجہ کے بیان میں یہ بھی باور کروایا گیا کہ فلسطینی عوام کے خلاف غاصبانہ طاقت کے طور پر اسرائیلی جرائم کے احتساب کی فلسطینی کوششوں کوعرب ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گزشتہ سال کے اواخر میں امریکی صدر کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کو مُسترد کرنے کیلئے ایک قرارداد منظور کرنے کی کوشش کی تھی جسے واشنگٹن نے ویٹو کردیا تھا ۔ لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی اقدام کو بھاری اکثریت سے مسترد کردیا تھا ۔ اس مسئلے پر امریکہ اور اسرائیل کی بین الاقوامی سفارتی تنہائی بڑھتی جارہی ہے کیونکہ اقوام عالم کی اکثریت مقبوضہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کرتی ۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں