غزہ کی سرحد پر مسلسل ساتویں جمعے کو فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ

(غزہ۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 26 شعبان 1439ھ)  فلسطین کے علاقے غزہ سے منسلک مقبوضہ اسرائیلی سرحد پر مسلسل ساتویں جمعہ کو بھی اسرائیلی فوج نے شدید فائرنگ کی جس سے مزید ایک فلسطینی جاں بحق اور دیگر 170 زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ مظاہرے جو 30 مارچ کو شروع ہوئے اِن میں اب تک 53 فلسطینی جاں بحق اور 1900 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ جمعے کے روز بھی اسرائیلی فوج نے پُرامن مظاہرہ کرنے والوں کو مبینہ اسرائیلی سرحد سے دور رکھنے کیلئے اندھا دھند فائرنگ کی اور آنسو گیس بھی استعمال کی۔

30 مارچ بروز جمعہ ’’یوم الارض‘‘ کے موقع پر شروع ہونے والے فلسطینیوں کے یہ مظاہرے 15 مئی تک جاری رہیں گے۔ یہ وہ دن ہے جب 1948ء میں برطانیہ کی پشت پناہی میں اسرائیلی ریاست تخلیق کرکے فلسطینیوں کو اُن کے گھروں، زمینوں، شہروں، قصبوں اور گاؤں سے بزورِ طاقت بیدخل کیا گیا تھا۔ فلسطینی اِس دن کو ’’نبکا‘‘ یعنی ’’یومِ تباہی‘‘ کہتے ہیں۔ اِس دن کی مناسبت سے فلسطینی اپنے اِس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ قبضہ کرلیے گئے اُن کے گھروں، شہروں، زمین، قصبوں اور گاؤں کو واپس لوٹایا جائے اور اُنہیں اپنے مقبوضہ گھروں، شہروں، محلوں اور گاؤں میں واپس آنے دیا جائے۔

یاد رہے کہ 1976ء میں اسرائیلی پولیس نے اسرائیل ہی کے 6 فلسطینی شہریوں کو اُس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ فلسطین کی ہزاروں ایکڑ زمین پر اسرائیلی حکومت کے قبضے کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔ اُس کے بعد سے فلسطینی ہر سال 30 مارچ کا دن ’’یوم الارض‘‘ کے طور پر مناتے ہوئے مغربی کنارے، مشرقی القدس، غزہ اور اسرائیل میں بھی بڑے احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔  رواں سال 30 مارچ کو بھی فلسطینیوں نے اپنے گھروں اور زمین کی واپسی کا مطالبہ دہرانے کیلئے مظاہرہ کیا لیکن اسرائیلی فوج نے اُنہیں ایک مرتبہ پھر گولیوں اور گولوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اب تک 53 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔

اسرائیلی فوج کی بربریت کیخلاف بین الاقوامی تنقید مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں نے اسرائیل کی کھلی مذمّت کرنے سے گریز کیا ہے تاہم ان ملکوں میں انسانی حقوق کے اداروں نے اسرائیل اور اسرائیل فوج پر تنقید کرتے ہوئے الزامات عائد کیے ہیں کہ اسرائیل نہتّے اور پُرامن فلسطینیوں پر گولیاں چلاکر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہا ہے جو جنگی جرائم کے مترادف ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں