لیبیا میں کشتی حادثہ ، 16 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق

(اسلام آباد ۔ اُردونیٹ پوڈکاسٹ ۔5 فروری 2018) پاکستان کے دفترخارجہ نے لیبیا کے سمندر میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 16 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والے 8 پاکستانی تارکین وطن کی لاشوں کو برآمد کرلیا گیا اور ان کی شناخت بھی ہوگئی ہے جبکہ 4 کی شناخت ان کے دوستوں کے ذریعے ہوئی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کیمطابق لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ میں جاں بحق ہونے والے 16 پاکستانیوں کی شناخت ہوگئی ہے اور جاں بحق افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہیں.

ترجمان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں گجرات، منڈی بہاوالدین، سرگودھا اور راولپنڈی سے ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق لیبیا میں پاکستانی سفارت خانہ جاں بحق ہونے والے تمام پاکستانی افراد کی لاشوں کو نکالنے کے لیے بہت کوشش کررہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حادثے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد اور ایک 5 سالہ بچہ بھی جاں بحق افراد میں شامل ہے۔

یاد رہے کہ لیبیا کی سمندری حدود میں افریقہ سے یورپ جانے والے مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے 11 پاکستانیوں سمیت 90 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

لیبیا کے قصبے زوارا میں موجود سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ دو لیبیا کے باشندے اور دو پاکستانیوں کو کشتی کے ذریعے بچالیا گیا ہے۔

زوارا ہمسایہ ملک تیونس کی سرحد کے قریب واقع ہے جہاں سے مہاجرین یا پناہ گزین گزشتہ دو برس کے دوران یورپ داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطن نے گزشتہ برس نشاندہی کی تھی یورپ داخلے کی کوشش کرنے والے شہریوں میں پاکستان کا نمبر 13 واں ہے اور 2017 میں 3 ہزار 138 پاکستانی اٹلی پہنچے تھے تاہم کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

تاہم رواں برس پاکستان تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے کیونکہ جنوری میں 240 کے قریب پاکستانی اٹلی پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان سے نوجوان تلاش معاش اور بہتر مستقبل کی اُمید میں یورپی ممالک کا رُخ کررہے ہیں ۔ ملک میں بیروزگاری اور مستقبل سے مایوسی کے سبب یہ نوجوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مقامی اور بین الاقوامی ایجنٹس ایسے نوجوانوں سے بھاری رقوم وصول کرکے اُنہیں ُرخطر زمینی اور سمندری راستے سے غیر قانونی طور پر یورپ لیجانے کوشش کرتے ہیں ۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں