مصر میں صدارتی انتخاب، رائے دہی کے اختتام پر ووٹوں کی گنتی شروع

(قاہرہ۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 12 رجب 1439ھ)  مصر بھر میں صدارتی انتخاب کے موقع پر تین دن سے جاری رائے دہی کے اختتام پر بُدھ کی شب ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگیا ہے۔  رائے دہی کا مقررہ وقت بُدھ کی شب 9 بجے تک تھا لیکن موسم میں خرابی کی وجہ سے قومی انتخابی انتظامیہ نے اِس میں ایک گھنٹے کی توسیع کی تاکہ تمام رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔

قبل ازیں دن میں انتخابی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ووٹ نہ ڈالنے والے مجاز رائے دہندگان پر قانون کیمطابق 500 مصری پاؤنڈ، تقریباْ 28 ڈالر کا جرمانہ عائد کرے گی۔ مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کیمطابق دارالحکومت قاہرہ سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح بلند رہی تاہم آزاد ذرائع کیمطابق کئی علاقوں میں رائے دہندگان کی تعداد خاصی کم تھی۔

دوسری جانب، قومی انتخابی انتظامیہ نے تیسرے روز دوپہر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ووٹ دینے والوں کی بڑی تعداد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے خاص طور پر قاہرہ، الیگزینڈریا، غِیزہ اور شمالی سینائی میں ووٹ دینے والوں کا تناسب بلند رہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صدرعبدالفتاح السیسی 2014ء کی طرح یہ انتخاب باآسانی جیت جائیں گے کیونکہ اخوان المسلمین جیسے گروپ پر پابندی ہے اور ہزاروں سیاسی رہنماء اور کارکن جیلوں میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ یکطرفہ انتخاب ہے کیونکہ ملک میں سیاسی آزادی نہ ہونے کے برابر ہے جس کے نتیجے میں سابق فوجی جنرل اور موجودہ صدر السیسی کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہوگا۔

مصر کے صدارتی انتخاب میں ملکی امن وامان، معیشت اور روزگار اہم موضوعات ہیں جبکہ ناقدین نے سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ اور سیاسی پابندیوں کے تناظر میں اِس صدارتی انتخاب کو ’’دکھاوا‘‘ قراردیتے ہوئے کسی بڑی تبدیلی کے امکان کو نظر انداز کردیا ہے۔   دوسری جانب، مذہبی رجحانات کا مخالف طبقہ صدر السیسی کی حمایت کررہا ہے جبکہ سرکاری ذرائع ابلاغ پر ایسے لوگوں کی آراء کو نمایاں وقت دیا جارہا ہے جو موجودہ صدر کے حامی ہیں۔

ملک سے باہر تقریبا 124 ملکوں میں مقیم مصری باشندوں کو بھی صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ مصر میں صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج کا اعلان 2 اپریل کو کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 2014ء میں منعقدہ مصر کے صدارتی انتخاب میں سرکاری انتظامیہ کیمطابق اہل رائے دہندگان کی 47 فیصد تعداد نے ووٹ ڈالا تھا اورعبدالفتاح السیسی واضح اکثریت کیساتھ کامیاب قرار پائے تھے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں