نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کا مبینہ قتل عام، فلسطینی صدر کے بیان پر اسرائیل برہم

(رملہ۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 17 شعبان 1439ھ)  فلسطینیوں کی زمین پر غیرقانونی قبضے، لاتعداد فلسطینیوں کو قتل اور لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کردینے والا اسرائیل فلسطین کے صدر محمود عبّاس کے ہولوکاسٹ کہلائے جانے والے یورپ میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے مبینہ قتلِ عام پر حالیہ بیان سے سخت برہم ہوگیا ہے جبکہ صابرہ اور شتیلا کیمپوں میںفلسطینیوں کے قتلِ عام پر خاموش رہنے والے اُسکے حمایتی گروپ بھی طیش میں آگئے ہیں۔

اطلاعات کیمطابق صدر محمود عبّاس نے فلسطینی پارلیمان سے پیر کے روز اپنے خطاب میں کہا ہے کہ 20 ویں صدی کے یورپ میں رقوم قرض دینے اور سُود جیسے یہودیوں کے سماجی رویے نے اُن کیخلاف دشمنی کو جنم دیا جس کی وجہ سے نازیوں نے یہودیوں کی نسل کشی کی۔ جناب عبّاس کیمطابق اُنہوں نے یہودی صیہونی لکھاریوں کی کتابوں کے حوالے سے یہ بات کہی ہے۔ اُنہوں نے لکھاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا وہ کہتے ہیں کہ ’’یہودیوں کیخلاف نفرت اُن کے مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ اُن کے پیشے کی وجہ سے تھی‘‘۔

صدر عبّاس نے اپنے خطاب میں اطلاعات کیمطابق یہ بھی کہا کہ اسرائیل ’’یورپی منصوبہ‘‘ تھا۔ بظاہر اُن کا اشارہ برطانیہ کی طرف تھا جس نے ایک طے شُدہ منصوبے کے تحت یورپ سے یہودیوں کو فلسطین لاکر اُن کیلئے علیحدہ ریاست ’’اسرائیل‘‘ تخلیق کی تھی۔ یہودیوں کی فلسطین میں آبادکاریوں کیلئے طاقت کے زور پر فلسطینیوں کواُن کے اپنے گھروں، کھیتوں، شہروں اور دیہات سے بیدخل کرکے وہاں یہودیوں کو بسایا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے اخبارات نے فلسطینی صدر کے حالیہ خطاب کی تفصیلات پر مبنی خبروں کے بجائے اُس پر اسرائیل اور انتہاء پسند یہودیوں کے حامی تجزیہ کاروں کے خیالات کی ذاتی آراء شائع کی ہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر بھی ایسے ہی مخصوص تجزیہ کاروں اور نامہ نگاروں کے تبصرے پیش کیے جارہے ہیں۔

دریں اثناء، اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عبّاس کے حالیہ بیان پر اُنہیں ہولوکاسٹ کا انکاری قراردیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ابُو مازن (محمود عبّاس) کی مذمّت کریں۔ یہودیوں کے کئی گروپوں نے بھی فلسطینی صدر کے بیان کی مذمّت کی ہے۔

دوسری جانب، غزہ میں 30 مارچ سے فلسطینی مظاہرین پر اسرائیل فوج کی فائرنگ سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان واقعات میں اب تک صحافیوں سمیت 47 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں