ٹرمپ-کِم سربراہ ملاقات کی منسوخی، امریکی صدر تاریخ رقم کرتے کرتے رہ گئے

(سیئول۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 09رمضان 1439ھ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے رہنماء کِم جونگ اُن سے پہلی شمالی کوریا-امریکہ ملاقات کی تاریخ رقم کرتے کرتے رہ گئے اور معمول سے ہٹ کر ٹوئیٹر کے بجائے وہائٹ ہاؤس سے اُن کا یہ بیان شمالی کوریا کے رہنماء کو لکھے گئے خط کی شکل میں جاری کیا گیا کہ سنگاپور میں متوقع سربراہ ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن اور نائب صدر مائیک پینس کے متنازع اور دھمکی آمیز بیانات اور اس کے جواب میں شمالی کوریائی وزارتِ خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار کے بیان کے بعد شمالی کوریا کے رہنماء کِم جونگ اُن اور صدر ٹرمپ کی 12 جُون کو سنگاپور میں متوقع سربراہ ملاقات منعقد ہونے کے امکان پر سوالیہ نشان لگ گئے تھے۔

شمالی کوریائی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر چو سون ہوئی نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ کیساتھ بات چیت ناکام ہوتی ہے تو اُن کا ملک جوہری طاقت کے مقابلے کیلئے تیار ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبررساں ادارے کی جانب سے جاریکردہ محترمہ چو کے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ ہم سے ملاقات کے کمرے میں ملے یا دوطرفہ جوہری مقابلے میں سامنے آئے، اس بات کا مکمل انحصار امریکہ کے فیصلے اور رویّے پر ہے۔

قبل ازیں، امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے جنہیں سخت گیر سمجھا جاتا ہے، ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کیساتھ بات چیت کو لیبیا کی طرح دیکھے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ شمالی کوریا کیلئے لیبیا ایک نمونہ (ماڈل) ہے۔

یاد رہے کہ لیبیا کے رہنماء کرنل معمر قذافی نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنا جوہری منصوبہ ترک کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے اپنے پلانٹ اور منصوبے کو بین الاقوامی معائنے کیلئے کھول دیا تھا لیکن چند سالوں کے اندر اندر اُن کا اقتدار ختم کرکے اُنہیں سرِعام قتل کردیا گیا۔

بعض تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ جون بولٹن کا مذکورہ بیان ایک ایسے موقع پر درست نہیں تھا جب پیانگ یانگ اور واشنگٹن سربراہ ملاقات کیلئے بات چیت کررہے ہیں۔ اسی دوران امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے ایک ٹی وی انٹرویو میں جون بولٹن کے بیان کو رد کیے بغیر کہا کہ ’’لیبیا کے نمونے کی کچھ بات ہوئی، صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر کِم جونگ اُن نے کوئی سمجھوتہ نہ کیا تو اس کا خاتمہ لیبیا نمونے کی طرح ہوگا‘‘۔

ان بیانات کے بعد شمالی کوریا نے امریکہ کیساتھ سربراہ ملاقات پر سخت جوابی رویہ اپنایا اور اُس کے اعلیٰ سطحی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کیساتھ سربراہ ملاقات منسوخ کی جاسکتی ہے۔  بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کیجانب سے شرائط عائد کی جارہی تھیں کہ شمالی کوریا غیرمشروط طور پر اپنا جوہری اور بیلسٹک میزائل منصوبہ ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کرے لیکن پیانگ یانگ غیرمشروط طور پر کوئی بھی اقدام کرنے پر راضی نہیں تھا۔

بعض ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ سنگاپُور میں سربراہ اجلاس اور اس کے سلامتی اقدامات کے بارے میں بھی شمالی کوریا تحفظات رکھتا تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ نے امریکی قیدیوں کو رہا اور اہم جوہری تجربہ گاہ کو ختم کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے خیرسگالی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن سخت گیر امریکی عہدیداروں کے اخباری بیانات، خاص طور پر لیبیا سے متعلق مثالیں پیش کرکے صورتحال کو بگاڑدیا گیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ مشقوں کو پیانگ یانگ نے انتہائی سنجیدہ لیا کیونکہ اُس کی جانب سے خیرسگالی کے اظہار کے باوجود جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا کیجانب سے خیرسگالی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ فروری میں منعقدہ پیونگ چانگ سرمائی اولمپکس میں شمالی کوریا کی شرکت اور بعد ازاں اپریل کے اواخر میں شمالی کوریا کے رہنماء کِم جونگ اُن اور جنوبی کوریا کے صدر مُن جے اِن کی سربراہ ملاقات نے کِم-ٹرمپ سربراہ ملاقات کی راہ ہموار کی تھی۔ 1953ء میں جنگِ کوریا کے اختتام کے بعد کِم جونگ اُن پہلے شمالی کوریائی قائد ہیں جو سرحد پار کرکے جنوبی کوریا پہنچے تھے۔

بعد ازاں مارچ میں کِم جونگ اُن نے چین کے دارالحکومت بیجنگ کا اچانک دورہ کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے جہاں اُنہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے علاوہ چین کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کیساتھ ملاقاتیں کیں۔ کِم نے مئی میں چین کا ایک اور دورہ کرکے دنیا اور خاص طور پر سفارتی حلقوں کو حیران کیا۔

کِم اور ٹرمپ کی سربراہ ملاقات کی منسوخی سے اُن لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے جو جنوبی کوریا اورشمالی کوریا کے مابین جنگ بندی سمجھوتے کی صورت میں رکنے والی جنگِ کوریا کے باضابطہ خاتمے کے اعلان کے منتظر تھے تاکہ جزیرہ نما کوریا میں مکمل امن آسکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سنجیدہ سفارتکاری ہوگی یا ایک مرتبہ پھر اخباری بیانات کے ذریعے تلخ بیانات خطّے میں کشیدگی کا باعث بنیں گے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں