ٹوکیو میں پاکستان-جاپان دوستی میلے کا تیسرا دن، ریکارڈ 60 ہزار سے زائد افراد کی شرکت

(ٹوکیو-اُردونیٹ پوڈکاسٹ02ذوالحجہ1439ھ) ٹوکیومیں جاری پاکستان-جاپان دوستی میلے کے تیسرےدن اتوار کے روز 60 ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ صبح ہی سے موسم خوشگوار ہونے کی وجہ سے جاپانیوں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد دن بھر میلے میں آتی رہی۔ یہ پانچ روزہ میلہ ٹوکیو کے معروف وینو پارک میں جاری ہے جہاں مشہور چڑیا گھر اور ایک عجائب خانہ واقع ہے۔

صبح 10 بجے کے لگ بھگ لوگوں نے میلے میں آنا شروع کیا اور رات آٹھ بجے بھی ہزاروں افراد میلے میں موسیقی اور دیگر پروگرامز سے لطف ہوتے رہے۔ گزشتہ روز کی طرح اتوار کے دن بھی پاکستانی رقص وموسیقی کے علاوہ جاپان کے مقامی گلوکاروں اور فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ میلے کے تیسرے روز بھی مسٹر پاکستان اور تیز مرچ والا پاکستانی کھانا کھانے کا دلچسپ مقابلہ بھی منعقد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں اور جاپانیوں کے ساتھ ساتھ دیگر غیرملکیوں نے بھی حصّہ لیا۔ 

دوپہر ایک بجے کے بعد میلے میں تل رکھنے کی جگہ نہ تھی۔ جاپانی اور پاکستانی شرکاء کا پاکستانی ریستورانوں کے اسٹالز پر زبردست ہجوم رہا۔ پاکستانی شرکاء زیادہ تر اپنے اہلِ خانہ کیساتھ آئے تھے۔ چیبا، سائیتاما، اباراکی، توچگی، فکوشیما، شزؤکا اور کاناگاوا پریفیکچر سمیت دیگر علاقوں سے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد میلے میں شرکت کیلئے آئی تھی اور زیادہ تر شرکاء رات آٹھ بجے تک بھی میلے میں تھے۔  

کاناگاوا پریفیکچر سے آنے والے ایک پاکستانی کا کہنا تھا کہ آج وہ اپنے بیوی بچّوں سمیت پاکستان-جاپان دوستی میلے میں شرکت کیلئے آئے ہیں اور اُنہیں ہر طرف پاکستانی پرچم، پاکستانی کھانوں کے ریستوران اور بڑی تعداد میں جاپانیوں کو بھی پاکستانی ماحول میں دیکھکر بیحد خوشی ہورہی ہے۔ مذکورہ پاکستانی کا کہنا تھا کہ ہمارے بچّوں کو پاکستان جانے کا زیادہ موقع نہیں ملتا اسلیے اس طرح کے میلے کا انعقاد بہت خوش آئند ہے اور اسے ہر سال منعقد ہوتے رہنا چاہیئے۔

ایک جاپانی جوڑے نے پاکستانی ریستوران سے سیخ کباب اور قیمہ خریدنے کے بعد اُردونیٹ کو بتایا کہ وہ آج پہلی بار پاکستانی کھانا کھائیں گے اور خوشبو و رنگ سے لگ رہا ہے کہ پاکستانی کھانے بہت لذیذ ہیں۔ بعد ازاں کھانا کھاتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ سیخ کباب اور قیمہ بھی بہت مزیدار ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ شاید پاکستانی کھانا بہت زیادہ مرچ والا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے اور اُنہیں کھانے میں مزہ آرہا ہے۔

ایک اور جوڑا جو کہ بریانی کھارہا تھا، اُنہوں نے بتایا کہ بریانی بہت مزیدار ہے اور وہ دیگر کھانے بھی کھانا چاہیں گے۔ ایک جاپانی خاتون کا کہنا تھا کہ وہ دو سال قبل کام کے سلسلے میں پاکستان جاچکی ہیں اور آج پاکستان-جاپان دوستی میلہ دیکھنے اور پاکستانی پکوان کھانے کیلئے وینو پارک آئی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے چکن کا سالن نان کیساتھ کھایا اورآم کی لسّی بھی ہے۔

اتوار کے روز میلے میں پاکستان کے سابق مایہ ناز اور تاریخ ساز اولمپیئن باکسر حسین شاہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اُنہوں نے اسٹیج پر میزبان صدیق رمضان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے بڑے بیٹے اور پاکستان کے مایہ ناز جُوڈوکا شاہ حسین شاہ اس وقت ایشیائی کھیلوں کیلئے زبردست تیاری کررہے ہیں۔ حسین شاہ نے حاضرین کو بتایا کہ انشاء اللہ شاہ حسین شاہ اُن کی طرح ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کیلئے عنقریب تمغہ جیتیں گے۔ حاضرین نے پاکستان کے سابق اولمپیئن باکسر کو زبردست تالیاں بجاکر داد دی۔

منتظمین کیمطابق اتوار کے روز لگ بھگ 60 ہزار سے زائد لوگ میلے میں آئے اور اُنہیں توقع ہے کہ پیر اور منگل کو بھی بڑی تعداد میں لوگ آئیں گے۔ میلے میں مختلف اقسام کے حلال کھانے، پاکستانی آم، پاکستانی لباس، دستکاری کا سامان اور دیگر اشیاء کے اسٹال بھی لگائے گئے ہیں جہاں پورے دن لوگوں کا ہجوم رہا۔ پاکستان-جاپان دوستی میلہ 2018ء پورے زور وشور کیساتھ جاری ہے۔ 10 اگست کو شروع ہونے والا یہ میلہ 14 اگست یومِ آزادیٴ پاکستان تک جاری رہے گا۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں