پاکستان اور جاپان سلامتی بات چیت کے چھٹے دور کا ٹوکیو میں انعقاد

(ٹوکیو۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 5 شعبان 1439ھ)  پاکستان اور جاپان کی سلامتی کے موضوع پر بات چیت کا چھٹا دور جمعہ کے روز ٹوکیو میں منعقد ہوا۔ سفارتخانہ پاکستان ٹوکیو کیجانب سے جاریکردہ بیان کیمطابق پاکستان کی طرف سے ایشیاء بحرالکاہل خطّے کیلئے اضافی سیکریٹری امتیاز احمد جبکہ جاپان کیجانب سے وزارتِ خارجہ کے شعبہٴ جنوب مشرقی اور جنوب مغربی ایشیائی اُمور کے ڈائریکٹر جنرل شِگیکی تاکی زاکی نے بات چیت میں قیادت کی۔

پاکستان اور جاپان کے مابین یہ سیاسی وعسکری بات چیت، سلامتی سے متعلق باہمی دلچسپی کے اُمور پر وسیع تبادلہٴ خیال کا فورم ہے اور کئی طرز کی بات چیت کے عمل کا حصّہ ہے جن میں سیاسی، اقتصادی اور سلامتی معاملات شامل ہیں۔

بیان کیمطابق، بات چیت کے دوران دونوں جانب سے دوطرفہ سلامتی تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اِس اَمر پر اتفاقِ رائے ہوا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات خوشگوار ہیں لہٰذا وسیع شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید بڑھانے کے بڑے امکانات موجود ہیں۔ اضافی سیکریٹری امتیاز احمد نے پاکستان کی اُن جامع کوششوں کے بارے میں جاپان کو بتایا کہ جو پاکستان نے افغانستان کو اُسی کی قیادت میں امن اور استحکام بڑھانے میں مدد کیلئے کی ہیں۔ اُنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کیجانب سے انسانی حقوق کی قابلِ مذمّت خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کیجانب سے بھارت پر یہ زور دینے کی ضرورت ہے کہ وہ مظالم کو روک دے اور طویل عرصے سے تعطل کا شکار تنازعہٴ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کیساتھ بات چیت کرے۔ جاپان کو انسدادِ دہشتگردی کی پاکستانی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

سفارتخانہٴ پاکستان ٹوکیو کیجانب سے جاریکردہ بیان کیمطابق قبل ازیں 19 اپریل کو دوطرفہ سلامتی بات چیت کے حصّے کے طور پر دونوں ملکوں کے مابین فوجی سطح پر بھی بات چیت کا انعقاد ہوا۔ پاکستانی کیجانب سے ریئرایڈمرل اویس احمد بلگرامی کی سربراہی میں اضافی سیکریٹری، وزارتِ دفاع نے جبکہ جاپان کیجانب سے وزارتِ دفاع میں بین الاقوامی اُمور کے ڈائریکٹر جنرل اوسامُو اِزاوا کی سربراہی میں اراکین نے شرکت کی۔ اِس بات چیت میں پاکستان اور جاپان کے اِرد گرد سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی دفاعی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ دفاعی تعاون اور تبادلوں کے فروغ سے متعلقہ معاملات پر بھی تبادلہٴ خیال کیا گیا ہے۔ دونوں جانب سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ کیلئے دفاعی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں