پاکستان کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کی نمایاں برتری، ن لیگ نے میں نہ مانوں کا اعلان کردیا

(لاہور-اُردونیٹ پوڈکاسٹ 13 ذوالقعدہ 1439ھ)  پاکستان کے عام انتخابات 2018ء کے ابتدائی اور غیرسرکاری وغیرحتمی نتائج کیمطابق پاکستان تحریکِ انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 116 نشستوں پر برتری حاصل ہے جہاں اُس کی کامیابی یقینی نظرآرہی ہے جبکہ سابق حکمراں جماعت مُسلم لیگ ن کو پنجاب سمیت ملک بھر میں شکست کا سامنا ہے اور جمعرات کی سہ پہر تک اُسے غیر سرکاری نتائج کیمطابق 65 نشستوں پر برتری حاصل تھی۔

رائے دہی کے بعد رات 12 بجے کے قریب اُس وقت صورتحال کشیدہ ہوتی نظر آئی جب مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے دھاندلی کا کوئی واضح ثبوت پیش کیے بغیر انتخابی نتائج مُسترد کرنے کا اعلان کردیا جبکہ متحدہ مجلسِ عمل کے مولانا فضل الرحمٰن اور کراچی میں ایم کیو ایم کیجانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ملک میں اور بین الاقوامی طور پر بھی اس بات پر سخت حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ بُدھ کے روز رائے دہی کے اختتام کے بعد رات دو بجے تک پاکستان کے انتخابی کمیشن کی طرف سے کوئی ایک بھی نتیجہ جاری نہ کیے جانے کے باوجود مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے انتخابی نتائج کو کیسے مُسترد کردیا۔ مقامی طور پر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے ملک بھر میں رائے دہی کے دوران کسی بھی جگہ پر دھاندلی یا سیاسی جماعتوں کی طرف سے جعلی ووٹ ڈلوانے کے کسی واقعے کی اطلاع نہیں دی تاہم انتخابی کمیشن کیجانب سے مقررہ وقت تک نتائج جاری نہ کیے جاسکے جس سے ملک بھر میں بیچینی پھیلی اور ن لیگ سمیت اُن جماعتوں نے تشویش کا اظہار کردیا جنہیں متوقع شکست کا یقین ہوگیا تھا۔

مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی طرف سے نتائج قبول نہ کرنے کے قبل از وقت اعلان نے کئی تجزیہ کاروں کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ ن لیگ متوقع نتائج سے بوکھلا گئی ہے۔ تین مرتبہ حکومت بنانے والی بڑی جماعت کے اس ردعمل پر شہباز شریف کی قیادت اور اہلیت سے متعلق بھی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت مقررہ پر نتائج کے اعلان میں ناکامی سے انتخابی کمیشن کی ناہلی اور بدانتظامی کھل کر سامنے آگئی ہے لیکن انتخابی کمیشن کا انتخاب اور انتظامی نظام کی منظوری مُسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے دی تھی اسلیے اُسے بھی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے۔ دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں عام طور پر انتخابات میں شکست کے بعد ہارنے والی سیاسی جماعت کا سربراہ مستعفیٰ ہوجاتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ موروثی سیاست کے گرد گھومتی پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں سے انتخابات میں شکست کھا جانے کے بعد کونسی سیاسی جماعت کا سربراہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ پیش کرتا ہے۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں