کِم جونگ اُن کا تیسرا دورہٴ چین، صدر شی سے ملاقات اور اہم اُمور پر تبادلہٴ خیال

(بیجنگ۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 6 شوال 1439ھ) شمالی کوریا کے رہنماء کِم جونگ اُن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سنگاپور میں سربراہ ملاقات کے ٹھیک 6 دن بعد منگل کے روز ایک بار پھر چین کا حیران کُن دورہ کیا ہے جہاں صدر شی جن پنگ نے اُنکا خیرمقدم کیا۔

چین کے خبر رساں ادارے شن ہُوا کیمطابق کِم جونگ اُن اور صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں تفصیلی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، خطّے کی صورتحال اور 12 جُون کو سنگاپور میں ہونے والی کِم-ٹرمپ سربراہ ملاقات کے حوالے سے تبادلہٴ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے جزیرہ نُما کوریا میں امن اور استحکام کی حالیہ لہر کو آگے لیجانے کیلئے ملکر کام کرنے اور چین-شمالی کوریا تعلقات کو مضبوط تر بنانے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر صدر شی نے کہا کہ چین کامریڈ چیئرمین کِم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سنگاپور میں منعقدہ سربراہ ملاقات اور جزیر نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے حوالے سے اتفاقِ رائے اور مثبت نتائج پر خوش ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کامریڈ چیئرمین کِم کا دورہٴ چین اِس امر کا غماز ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے مابین تزویراتی رابطوں کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔

اطلاعات کیمطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں کِم جونگ اُن نے کہا کہ وہ مختصر سے عرصے میں صدر شی جن پنگ سے ایک مرتبہ پھر ملاقات کرنے پر خوش ہیں۔ اُنہوں نے چین کے صدر شی، چین کی کمیونسٹ پارٹی اور چینی عوام کیجانب سے بھرپور حمایت فراہم کرنے پر اظہارِ تشکّر بھی کیا۔

باور کیا جاتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جزیرہ نُما کوریا کی صورتحال اور امریکی صدر ٹرمپ سے جناب کِم کی سربراہ ملاقات کے نتائج اور پیشرفتوں پر بات چیت کی ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے عرصے میں شمالی کوریائی رہنماء کِم کا یہ تیسرا دورہٴ چین ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اِن دونوں ملکوں کے تزویراتی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں