سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یمن میں انسانی امداد کیلئے اقوام متحدہ کو ایک ارب ڈالر فراہم کردیے

(نیویارک۔اُردونیٹ پوڈکاسٹ 13 رجب 1439ھ)  یمن میں جاری بحران میں انسانی امداد کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اقوامِ متحدہ کو تقریبا ایب ارب ڈالر کی رقم فراہم کردی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے نیویارک میں ادارے کے صدر دفتر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے 93 کروڑ ڈالر کا چیک وصول کیا۔

عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اظہارِ تشکّر کرتے ہوئے دیگر ملکوں سے اپیل کی کہ آئندہ ہفتے جنیوا میں منعقد ہونے والی فنڈ جمع کرنے کی بین الاقوامی کانفرنس میں اِسی فراخدلی کا مظاہرہ کریں جیسی اِن دونوں ملکوں نے کی ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اپنی ملاقات میں جناب انتونیو گتریس نے کہا کہ ’’ضرورت مندوں کو دینا اسلام کا مرکزی ستون ہے‘‘۔  اُنہوں نے یہ بھی باور کروایا کہ پناہ گزینوں کی دوتہائی تعداد مسلمان ہے اور اُنہیں مسلمان ممالک نے ہی قبول کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کیمطابق اُسے یمن میں 2018ء کے دوران اپنے انسانی مدد کے منصوبے پر عملدرآمد کیلے 2 ارب 96 کروڑ ڈالر کی رقم درکار ہے جس سے یہ عالمی ادارہ اور اِس کے شراکتدار یمن میں لاکھوں متاثرہ افراد کی تکالیف دور کرنے میں مدد کرسکیں گے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں دو کروڑ 20 لاکھ افراد کو انسانی امداد یا تحفظ کیلئے اعانت کی ضرورت ہے جن میں دو 20 لاکھ لوگ شامل ہیں جو ملک میں حکومت اور باغیوں کے مابین جاری مسلح تنازع کے باعث اپنے گھروں اور علاقوں کو چھوڑ کر دوسری ملک کے اندر ہی دیگر جگہوں پر نقل مکانی کرگئے ہیں۔

یمن کی امداد کیلئے بین الاقوامی طور پر امدادی سرمائے کے حصول کیلئے جنیوا میں 3 اپریل کو ایک کانفرنس منعقد ہوگی۔  یاد رہے کہ سعودی عرب اقوامِ متحدہ کو یمن میں انسانی مدد کے کاموں کیلئے دیے جانے والی رقم کے علاوہ اپنی حکومتی تنطیموں اور دیگر اداروں کے ذریعے بھی یمن میں انسانی امداد مسلسل فراہم کررہا ہے۔

دوسری جانب ایک نجی ادارے کی حالیہ رپورٹ کیمطابق ترقّی یافتہ ممالک دنیا بھر میں پناہ گزینوں کیلئے عملی طور پر بہت کم امداد فراہم کرتے ہیں۔ مزید برآں سات بڑے صنعتی ترقّی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون سمیت تیزی سے معاشی ترقّی کرنے والے ممالک بھی پناہ گزینوں کی امداد اور اُنہیں پناہ دینے میں معمولی کردار ادا کررہے ہیں۔

جواب لکھیے

براہ مہربانی اپنا تبصرہ یہاں لکھیں
براہ مہربانی یہاں اپنا نام لکھیں